دن دونا رات چوگنا

قسم کلام: متعلق فعل

معنی

١ - روز بروز لمحہ بہ لمحہ زیادہ، بہت زیادہ ترقی یا کمال پر، کسی امر میں کمال ترقی کی نسبت کہتے ہیں۔ "ہر بسنت بسنتی نیا روپ پا کر کھلتی گئی، بیساکھ کے بیساکھ رمچنا میں دن دونا رات چوگنا خون اینڈ اینڈ کر اچھلتا۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالامکھ، ٣٩ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے اسم 'دن' کے ساتھ اسم صفت 'دونا' اور اس کے متضاد 'رات' کے ساتھ اسم صفت 'چوگنا' لگا کر سب کو ملا کر مرکب بنایا گیا ہے۔ اردو میں ١٩٢٤ء کو "انشائے بشیر" میں مسستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - روز بروز لمحہ بہ لمحہ زیادہ، بہت زیادہ ترقی یا کمال پر، کسی امر میں کمال ترقی کی نسبت کہتے ہیں۔ "ہر بسنت بسنتی نیا روپ پا کر کھلتی گئی، بیساکھ کے بیساکھ رمچنا میں دن دونا رات چوگنا خون اینڈ اینڈ کر اچھلتا۔"      ( ١٩٨٦ء، جوالامکھ، ٣٩ )